Wednesday, March 18, 2020

طواف کعبہ کا رکنا!

طواف کعبہ کا رکنا!

تاریخ میں متعدد بار طواف کعبہ رکا، اس میں سب سے مشہور واقعہ 317 ہجری میں فتنہء قرامطہ کا ظہور تھا، یہ وہ خطرناک گروہ  تھا جو حج کو جاہلیت کے زمانے کا عمل قرار دیتے تھے،  انھوں نے تقریبا دس سال تک مسلمانوں کو حج کا فریضہ ادا کرنے سے روکے رکھا، کعبہ کی دیواروں پر حجاج کا قتل عام کیا اور حجر اسود کو چوری کر کے لے گئے جو کہ بیس سال بعد ان سے بازیاب کرایا گیا۔

1814 عیسوی میں طاعون کی وجہ سے حج روک دیا گیا۔

1883 میں ہیضہ کی وباء پھوٹنے کی وجہ سے حج روک دیا گیا۔

1979 عیسوی میں جھیمان العتیبی نے جب حرم مکی پر قبضہ کیا تو دو ہفتوں تک طواف کعبہ میں نماز ادا نہ کی جا سکی۔

اور 2017 عیسوی میں بے پناہ ہجوم کے باعث طواف رک گیا۔

اس کے علاوہ شدید بارش اور سیلاب کے باعث متعدد دفعہ طواف کعبہ رکا رہا۔

یہ سب واقعات کن کے سبب اور کن حکومتوں کے دوران پیش آئے یہ آپ تاریخ سے استفادہ کرکے یا گوگل کر کے با آسانی دیکھ سکتے ہیں لیکن ان واقعات کے دوران بھی زمین کی نقل و حرکت بند نہیں ہوئی اور نہ چاند سورج اور دیگر اجرام فلکی ٹوٹ کر گر پڑے  لہذا ڈر اور خوف کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 سعودی حکومت نے انسانوں کی فلاح کی خاطر مطاف کا ایریا خالی کروا کر صفائی ستھرائی کی اور جراثیم کش ادویات کا چھڑکائو کیا، لیکن پہلی اور دوسری منزل پر طواف کا عمل جاری رہا اس لئے سعودی حکومت کو لعن طعن کرنے کے بجائے امت مسلمہ کو اللہ سے اس آفت سے پناہ مانگنے اور توبہ و استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ وہی ایک واحد مشکل کشا ہے، جس کے حضور سب حاجت روائی کے لئے پیش ہوتے ہیں۔ اللہ ہماری مشکلیں حل کرے اور ضرورتیں پوری فرمائے۔

ہر چیز کے لئے اللہ کے پاس ایک وقت معین ہے، وہ جب چاہے گا قیامت بھی قائم کر دے گا لیکن طواف کعبہ کے رکنے سے اس کا مشروط ہونا ثابت نہیں، اور اگر انسانی طواف رک بھی جاتا ہے تو دیگر مخلوقات کا طواف جاری رہتا ہے۔...

No comments:

Post a Comment