Thursday, February 10, 2022

ہم نے کیا خاک ترقی کرنی تھی؟

 میں عرصہ دراز سے اس بات کا تزکرہ کرتا رہتا ہوں۔ کہ ہمارے لوگ بے راہ روی کا شکار لوگوں کے پیچیے یوں باگتے ہیں جیسے کہ کھلا راستہ ان سے ہی منسوب رہا ہے ۔ اور پھر کسی نہ کسی بنیاد پر وہ آن گرتے ہیں ۔ بحر حال میں آج ایک غیرت مند انسان کے ناطہ یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمیں پیار کرنے کو صرف 14 فروری کا ہی دن میسر آیا کیا ہم کسی بات کو واضح نہیں رکھتے کہ ہم اس خاص شرارت کو ختم کرنے میں اپنا اپنا کردار ضرور ادا کریں تاکہ ہم ان کے پیچھے لگنےکی بجائے ان کو سیدھا راستہ دیکھا کر ایک نئی زندگی کا مکمل آغاز کریں 

آج کل لوگ کسی غلط بات کو روکنا تو دور کی بات بلکہ اس کا شکار ہو کر فخر بھی کرتے ہیں ۔ آپ سب اس بات پر مکمل سوچ بچار فرمائیں 

شکریہ 



Tuesday, February 8, 2022

یہ تم نے توپ کے لائسنس کے لیئے درخواست پورے هوش و حواس میں دی ہے

 ‏کورٹ میں ایک عجیب مقدمہ چل رہا تھا، ایک دیہاتی نے توپ کے لائسنس کیلئے درخواست دی تھی، اور یہ دیکھنے پبلک کی بھیڑ اور میڈیا بھی کورٹ میں موجود تھے۔۔۔

جج دیہاتی سے، 

 یہ تم نے توپ کے لائسنس کے لیئے درخواست پورے هوش و حواس میں دی ہے

دیہاتی، جی ہاں جج صاحب

‏جج، کیا تم عدالت کو بتاؤ گے کہ یہ توپ تم کہاں اور کس پر چلانے والے ہو

دیہاتی، "جج صاحب، گزشتہ سال میں نے اپنے دیہی بینک میں 1 لاکھ روپے کے بے روزگار لون کیلئے درخواست دی، بینک والوں نے پوری جانچ پڑتال کر کے میرے لیئے 10 ہزار روپے کا لون منظور کیا

‏اس کے بعد اپنی بہن کی شادی کے لیئے میں نے راشن سے 100 کلو شکر کے لیئے درخواست کی اور مجھے راشن سے صرف 10 کلو شکر ملی

ابھی کچھ دن پہلے جب میری فصل شدید بارشوں کے نتیجہ میں آنے والے سیلاب میں ڈوب گئی تو پٹواری میرے لیئے 50 ہزار روپے کا معاوضہ منظور کرنے ‏کی بات کرکے گیا اور میرے اکاؤنٹ میں صرف 5 ہزار روپے ہی آئے


اس لیئے اب میں سرکاری طریقہ کار کو بہت اچھی طرح سے سمجھ گیا ہوں، مجھے تو بندر بھگانے کیلئے پستول كا لائسنس چاہیئے تھا پر میں نے سوچا کی اگر میں پستول کے لائسنس کی درخواست کروں گا۔۔۔‏تو کہیں مجھے آپ غلیل کا لائسنس ہی نہ دے دیں، اس لئے میں نے توپ کے لائسنس کی درخواست دی ہے۔