Computer Hardware and Networking Computer I.T Engineer
Sunday, March 6, 2022
" ہم بچوں کا ٹیلنٹ قتل کر رہے ہیں؟ ادارے صرف کاروبار میں مصروف ہیں ۔ آپ کا بچہ کیا سمجھے گا۔؟"
ہمارے ہاں والدین، ٹیچرز اور تعلیمی ادارے سب ہی اس تجارتی منڈی کا حصہ بن گئے ہیں جس کا مقصد صرف اور صرف تجارت ہے۔۔۔
تعلیمی اداروں کو اپنی فیس سے غرض ہے، ٹیچر کو اپنی تنخواہ سے غرض ہے اور والدین کو بچے کی زیادہ آمدن یا اچھی نوکری سے غرض ہے۔۔
اس سب کے درمیان بچہ، اس کا ٹیلنٹ، اس کا پیشن اور اس کی قدرتی صلاحتیں کچلی جاتی ہیں، بے دردی سے اس کا قتل کیا جاتا ہے۔۔
ملٹی پل انٹیلیجنس تھیوری کے مطابق ہر بچہ مختلف ہے اور یہی حقیقت ہے لیکن ہم تمام بچوں کو ایک ہی طرح سے، ایک ہی سلیبس اور ایک ہی امتحان کی بنیاد پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سٹینڈرڈ" مارکس" ہے کہ جس کے نمبر زیادہ ہیں وہ لائق اور کم نمبر والے نالائق میں شمار کیے جاتے ہیں۔۔
جو بچے ٹیکنیکل مائنڈ کے ہیں ہم ان بچوں کو بھی تھیوری کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ آپ کئی بچوں کو کیمسٹری کے ری الیکشن وائٹ بورڈ پر سمجھا دیں تو تھیوریٹیکل مائنڈ والا اسے آسانی سے سمجھ جائے گا جب کہ ٹیکنیکل مائنڈ بچہ سو مرتبہ بورڈ پر سمجھانے کے بعد بھی نہیں سمجھے گا لیکن اگر اسی بچے کو لیب میں جا کر ایک مرتبہ ری ایکشن کروا دیا جائے تو یہ فورآ سمجھ لیتا ہے۔۔۔
ایک بچے کے بیگ میں بلاکس ہوتے ہیں ۔وہ بچہ کتنی مہارت سے اپنی انگلیوں کا استعمال کر رہا ہے، یہ صرف ایک پریکٹس نہیں بلکہ دماغی کھیل بھی ہے۔ اس ساری ترتیب، آرڈر، موومنٹس اور پیٹرن کو یاد رکھنا کون سا آسان ہے؟ میں خود کئی بار اسے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا اور بالآخر تھک ہار کر کیوب کو ایک طرف رکھ دیا کہ بھئی یہ اپنے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔ تو یہ بچہ کند ذہن اور نالائق کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ صرف ان کیلئے نالائق ہے جو کاغذ کے ٹکڑوں کو کامیابی کا معیار سمجھتے ہیں۔۔۔
اگلی بات ہے کریئٹیویٹی کی۔۔ ہمارے ہاں بہت سے بچے کریئٹو ہیں، جو کتاب سے رٹا نہیں لگانا چاہتے، وہ اپنی سوچ اور الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ٹاپک پر بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ان بچوں کو بھی رٹے کی بھنٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ کئی بچوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جنہوں نے اپنی کرئیٹیویٹی صرف اس وجہ سے دفن کر دی کہ ٹیچرز کہتے ہیں کتاب میں تو یہ نہیں لکھا ہوا۔ ایک لکیر کا فقیر ٹیچر اسی طرح بات کرتا ہے جو خود کتابی کیڑا ہو جسے خود اپنے مضمون پر گرفت نہ ہو وہ کریئٹیویٹی کو خاک سمجھے گا؟ ایسا ایک ٹیچر کئی نسلیں تباہ کر دیتا ہے۔۔۔
میں نے جتنا عرصہ ٹیچنگ کی، کبھی کتاب تک محدود نہیں رہا۔ جو بچہ اپنی طرف سے سوچ کر لکھتا تھا، اپنے الفاظ کا استعمال کرتا تھا میں نے ہمیشہ ان بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔۔ جان بوجھ کر کچھ اضافی نمبر دیئے تاکہ یہ اپنی کریئٹو رائٹنگ پر مزید فوکس کریں۔۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں رٹے کو اتنا فروغ دیا گیا ہے کہ بچوں کی اب یہ حالت ہے۔ 2022 میں خط یا درخواست لکھتے وقت 2018 لکھا جاتا ہے جو کہ کتاب پر درج ہے۔ چھٹی کی درخواست تک بچے اپنی طرف سے نہیں لکھ پاتے اور جو کوشش کرتے ہیں ان کی کوشش کو دبا دیا جاتا ہے۔۔۔
اور کچھ ٹیچرز تو اتنے ناخوشگوار رہتے ہیں کہ طالب علم ان کو گھی شکر لگانے میں ہی مصروف رہتے ہیں اسی دوران
ایک بچے کے ٹیلنٹ اور پیشن کو پالش بھی دو لوگ کرتے ہیں اور قتل بھی، والدین اور ٹیچرز۔۔ مقام افسوس ہے کہ اب یہ دونوں ہی ٹیلنٹ اور پیشن کو قتل کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں 100/100 والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر ماہر اور پروفیشنل لوگوں کی کمی ہے۔ اتنے مارکس کے باوجود ہم اچھے ڈاکٹرز، انجینیئرز، ماہر نفسیات، ٹیچرز، سیاستدان،سائنسدان بیوروکریٹس وغیرہ سے محروم ہیں۔۔
تعلیمی اداروں میں انویسٹرز کی بھرمار ہے۔ جب سے پراپرٹی پر ٹیکس وغیرہ میں اضافہ ہوا تب سے بہت بڑے بڑے مگر مچھ انویسٹرز نے اپنی رقم اس کاروبار سے نکال کر تعلیمی اداروں میں انویسٹ کر دی۔ بڑی بڑی عمارتیں، لگژری ماحول، آئے روز فضول فنکشن، میوزک کنسرٹس، مشاعرے اور پھر ان مشاعروں میں جس طرح کے شعراء کو مدعو کیا جاتا ہے اللہ ہی معاف کرے۔ یہ سب کیا ہے؟ صرف اور صرف مارکیٹنگ ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔
تو جو بچہ 33 سیکنڈ میں بلاکس اور پیٹرن حل کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ورلڈ ریکارڈ چار سیکنڈ کا ہے اور میں اسے ایک دن تین سیکنڈ میں کر لوں گا تو وہ یقیناً کر سکتا ہے اگر والدین اور ٹیچرز کی سپورٹ حاصل ہو جائے۔جب کہ اس بچے کو نالائق بچہ کہا جاتا ہے۔ یہ بچہ لکھتے وقت بھی اپنے الفاظ کا استعمال کرتا ہے، اسے سیم کتاب جیسا لکھنا پسند نہیں۔۔ ہمیں اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ورنہ ایسے کئی ہیرے ہمارے رویوں کے نیچے دفن ہو گئے ہیں۔
سب سے ذیادہ قصور پہلی سے دسویں جماعت کے اسکولوں کا ہے جو کم ظرف لوگوں کو ٹیچرز کا عہدہ دے کر اس معاملے کو بے جا تقویت دیتے جا رہے ہیں۔ بحرحال
والدین کو اپنا مائنڈ سیٹ بدلنے کی ضرورت ہے، اب بہت ہو گیا ۔ آپ تعلیمی اداروں سے یہ سوال کرنا شروع کر دیں کہ ہمارے بچوں کے ٹیلنٹ کو پالش کرنے کیلئے آپ لوگ کیا اقدامات کر رہے ہیں؟
یہاں ایسی کون سی ایکثیویٹیز کروائی جاتی ہیں جن کے توسط سے بچوں کا ٹیلنٹ سامنے آئے؟
ان کا پیشن ڈسکور کیا جائے؟
ان کے کیریئر کا معلوم کیسے ہوگا؟
اس بارے آپ کا تعلیمی ادارہ کیا کر رہا ہے؟
اور ٹیچرز کومکمل ٹریننگ دی جاتی ہے یا نہیں اور ٹریننگ دینے والے کا عمل کیسا ہے ؟
ٹریننگ رٹا لگوانے کی دی جاتی ہے یا پھر بچوں کو ان کے مطابق ٹیچ کرنے کی؟
بس آپ مارکس سے ہٹ کر اس طرح کا مائنڈ سیٹ بنا لیں تو آنے والے چند سالوں میں یہ سسٹم تبدیل ہو سکتا ہے۔
؎ناچیزکا بلاگ ۔۔۔۔ آپ سب کے نام
Thursday, February 10, 2022
ہم نے کیا خاک ترقی کرنی تھی؟
میں عرصہ دراز سے اس بات کا تزکرہ کرتا رہتا ہوں۔ کہ ہمارے لوگ بے راہ روی کا شکار لوگوں کے پیچیے یوں باگتے ہیں جیسے کہ کھلا راستہ ان سے ہی منسوب رہا ہے ۔ اور پھر کسی نہ کسی بنیاد پر وہ آن گرتے ہیں ۔ بحر حال میں آج ایک غیرت مند انسان کے ناطہ یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمیں پیار کرنے کو صرف 14 فروری کا ہی دن میسر آیا کیا ہم کسی بات کو واضح نہیں رکھتے کہ ہم اس خاص شرارت کو ختم کرنے میں اپنا اپنا کردار ضرور ادا کریں تاکہ ہم ان کے پیچھے لگنےکی بجائے ان کو سیدھا راستہ دیکھا کر ایک نئی زندگی کا مکمل آغاز کریں
آج کل لوگ کسی غلط بات کو روکنا تو دور کی بات بلکہ اس کا شکار ہو کر فخر بھی کرتے ہیں ۔ آپ سب اس بات پر مکمل سوچ بچار فرمائیں
شکریہ
Tuesday, February 8, 2022
یہ تم نے توپ کے لائسنس کے لیئے درخواست پورے هوش و حواس میں دی ہے
کورٹ میں ایک عجیب مقدمہ چل رہا تھا، ایک دیہاتی نے توپ کے لائسنس کیلئے درخواست دی تھی، اور یہ دیکھنے پبلک کی بھیڑ اور میڈیا بھی کورٹ میں موجود تھے۔۔۔
جج دیہاتی سے،
یہ تم نے توپ کے لائسنس کے لیئے درخواست پورے هوش و حواس میں دی ہے
دیہاتی، جی ہاں جج صاحب
جج، کیا تم عدالت کو بتاؤ گے کہ یہ توپ تم کہاں اور کس پر چلانے والے ہو
دیہاتی، "جج صاحب، گزشتہ سال میں نے اپنے دیہی بینک میں 1 لاکھ روپے کے بے روزگار لون کیلئے درخواست دی، بینک والوں نے پوری جانچ پڑتال کر کے میرے لیئے 10 ہزار روپے کا لون منظور کیا
اس کے بعد اپنی بہن کی شادی کے لیئے میں نے راشن سے 100 کلو شکر کے لیئے درخواست کی اور مجھے راشن سے صرف 10 کلو شکر ملی
ابھی کچھ دن پہلے جب میری فصل شدید بارشوں کے نتیجہ میں آنے والے سیلاب میں ڈوب گئی تو پٹواری میرے لیئے 50 ہزار روپے کا معاوضہ منظور کرنے کی بات کرکے گیا اور میرے اکاؤنٹ میں صرف 5 ہزار روپے ہی آئے
اس لیئے اب میں سرکاری طریقہ کار کو بہت اچھی طرح سے سمجھ گیا ہوں، مجھے تو بندر بھگانے کیلئے پستول كا لائسنس چاہیئے تھا پر میں نے سوچا کی اگر میں پستول کے لائسنس کی درخواست کروں گا۔۔۔تو کہیں مجھے آپ غلیل کا لائسنس ہی نہ دے دیں، اس لئے میں نے توپ کے لائسنس کی درخواست دی ہے۔