میں عرصہ دراز سے اس بات کا تزکرہ کرتا رہتا ہوں۔ کہ ہمارے لوگ بے راہ روی کا شکار لوگوں کے پیچیے یوں باگتے ہیں جیسے کہ کھلا راستہ ان سے ہی منسوب رہا ہے ۔ اور پھر کسی نہ کسی بنیاد پر وہ آن گرتے ہیں ۔ بحر حال میں آج ایک غیرت مند انسان کے ناطہ یہ لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمیں پیار کرنے کو صرف 14 فروری کا ہی دن میسر آیا کیا ہم کسی بات کو واضح نہیں رکھتے کہ ہم اس خاص شرارت کو ختم کرنے میں اپنا اپنا کردار ضرور ادا کریں تاکہ ہم ان کے پیچھے لگنےکی بجائے ان کو سیدھا راستہ دیکھا کر ایک نئی زندگی کا مکمل آغاز کریں
آج کل لوگ کسی غلط بات کو روکنا تو دور کی بات بلکہ اس کا شکار ہو کر فخر بھی کرتے ہیں ۔ آپ سب اس بات پر مکمل سوچ بچار فرمائیں
شکریہ
No comments:
Post a Comment