Thursday, October 15, 2020

مدد کرنے کا انوکھا انداز 😆



جب  میں پہلی بار سپر فاسٹ ٹرین میں سوار ہوا اور پہلے سے موجود مسافروں سے پوچھا کہ  رحیم یا ر خان کب آئے گا؟ مجھے اترنا ہے

تو مسافروں نے بتایاکہ

"بھائی یہ سپرفاسٹ گاڑی ہےرحیم یا ر خان  میں نہیں رکتی"

"رحیم یا ر خان  سے گزرے گی مگر رکے گی نہیں"


یہ سن کر میں گھبرا گیا۔۔😟

 مسافروں نے کہا

"گھبراؤ نہیں!" 

"رحیم یا ر خان  میں روز یہ ٹرین کافی حد تک سلَو ہو جاتی ہے،تم ایک کام کرنا،جیسے ہی ٹرین سلو ہو تو تم دوڑتے ہوئے ٹرین سے اترنا اور آگے کی طرف بنا رکے دوڑتے ہوئے کچھ دور جاناجس طرف ٹرین جا رہی ہے، اس طرف ہی دوڑنا تو تم گروگے نہیں"

اس بات سے میں مطمئن ہوگیا۔

رحیم یا ر خان   آنے سے قبل ہی مسافروں نے مجھے گیٹ پر کھڑا کر دیا

رحیم یا ر خان  آتے ہی میں  ان کے بتائے طریقہ  کے مطابق پلیٹ فارم پر کودا 🦘اور کچھ زیادہ ہی تیزی سے دوڑ گیا۔۔🏃🏃🏃🏃🏃

 اتنا تیز دوڑا کہ اگلے ڈبہ تک جا پہنچا...🚃🚃🚃

اس ڈبہ کے مسافروں نے جب مجھے ٹرین کے ساتھ بھاگتے دیکھا تو جھٹ سے ایک  نے میرا ہاتھ پکڑا اور دوسرے نے شرٹ پکڑی اور مجھے کھینچ کر واپس ٹرین میں چڑھا لیا۔😭😡😢

اب ٹرین رفتار پکڑ چکی تھی اور سب مسافر بول رہے تھے 

"تیرا نصیب اچھا ہے جو تجھے یہ گاڑی مل گئی ،ورنہ یہ سپر فاسٹ ٹرین ہے اور ملتان  میں نہیں رکتی!!" 😜😝😉😆

(منقول)

No comments:

Post a Comment