Thursday, February 27, 2020

وہ صدیاں بیچ کے آیا تھا میرے پاس .....ممکن نہیں ھوا میرا لمحہ خرید لے۔۔₨

اُس کی تمام عمر کا ترکہ خرید لے
بڑھیا کا دل تھا کوئی تو چرخہ خرید لے

اک بوڑھا اسپتال میں دیتا تھا یہ صدا
ھے کوئی جو غریب کا گُردہ خرید لے ؟

مزدور کی حیات اِسی کوشش میں کٹ گئی
اک بار اُس کا بیٹا بھی بستہ خرید لے

ھم سر کٹا کے بیٹھے ھیں مقتل کی خاک پہ
دشمن سے کوئی کہہ دے کہ نیزہ خرید لے

پیاسے کے اطمینان سے لگتا تھا دشت میں
چاھے تو مشک بیچ کے دریا خرید لے

جب اُس سے گھر بنانے کے پیسے نہ بن سکے
وہ ڈھونڈتا رھا کوئی نقشہ خرید لے

بیٹی کی شادی سر پہ تھی اور دل تھا باپ کا
زیور کے ساتھ چھوٹی سی گڑیا خرید لے

تُو بادشاہ ھے فقر کے طعنے نہ دے مجھے
بس میں نہیں تیرے میرا کاسہ خرید لے

 وہ صدیاں بیچ کے آیا تھا میرے پاس
ممکن نہیں ھوا میرا لمحہ خرید لے۔۔

No comments:

Post a Comment